اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب )کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅ نٹیبلٹی، ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں …
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت اجلاس ، نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں11انکوائریوں کی منظوری دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب )کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅ نٹیبلٹی، ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں11انکوائریوں کی منظوری دی گئی جن میںسعید احمد سابق صدر نیشنل بنک پاکستان، نیشنل بنک آف پاکستان کے افسران/اہلکاران اور دیگر، نیپرا، وزارت پانی و بجلی، پی پی آئی بی کے افسران/اہلکاران اور پورٹ قاسم کول پاور، ساہیوال کول پاور پراجیکٹس کے سپانسرز اور دیگر حیدر اشرف ڈی آئی جی پولیس، امین وینس سی سی پی اولاہور، عمر ورک ایس ایس پی اور دیگر، کامران اخترسابق ٹاﺅن نا ظم/ ایم پی اے بلدیہ ٹاﺅن کراچی، محکمہ صحت حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران، یونیورسٹی آف صوابی کے افسران/اہلکاران اور دیگر، پبلک سیکٹر کمپنیز خیبر پختونخواہ کے افسران/اہلکاران اور دیگر، سول ایوی ایشن اتھارٹی باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور کے افسران/اہلکاران اور دیگر اور پھاٹا کے افسران/اہلکاران اور دیگر، سعید احمد جاگرانی سابق ڈائریکٹر نارا کینال سیڈامیرپور خاص اور نصرت ڈویژن محکمہ آبپاشی کے افسران /اہلکاران اور دیگر شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کا ریفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںمحمد عبد الرﺅف صدیقی سابق صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز اینڈ کامرس حکومت سندھ اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پر مبینہ طور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 372غیرقانونی بھرتیوں اورسرکاری فنڈز میں خردبرد کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو 42کروڑ روپے سے زائدکا نقصان پہنچا۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے افسران /اہلکاران اور دیگر ،پنجاب فنڈ فار ریہیبیلیٹیشن آف سپیشل پرسنز لمیٹڈ لاہور کی انتظامیہ /افسران /اہلکاران اور دیگر،عبدالقدیر بھٹی سابق اے آئی جی اور دیگر،عامر ذولفقار ڈی آئی جی اور دیگر،واصف محمود سابق پرنسپل ایگزیکٹیو آفیسر پاکستان سٹیل ملز اور دیگر، ڈسٹرکٹ شہید بے نظیر آباد کے افسران ، ڈاکٹر مبارک علی پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سی ڈی اے کے افسران /اہلکاران اور دیگرکے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انوسٹی گیشن بند کرنے کی منظوری دی۔ نیب اب صرف میگا کرپشن کیسسز پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرے گا اور اسی پالیسی کے تحت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سنٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی لمیٹڈ کے افسران/اہلکاران اور دیگرکے خلاف انکوائری متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بھجوانے کی منظوری دی اورنیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے ایو ب میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ایبٹ آباد کے افسران/اہلکاران اور دیگرکے خلاف انکوائری، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بھجوانے کی سفارش کی۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے ۔نیب "احتساب سب کے لئے” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیر ا ہے۔انہوں نے کہاکہ نیب بد عنوان عناصر ، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتاہے اور اس ضمن میں ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔







