وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا 9 ویں ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

استنبول ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اپنے مواصلاتی و توانائی انفراسٹرکچر کی بہتری اور علاقائی رابطے کے فروغ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان ڈی ایٹ رکن ممالک کے ساتھ سب کے لئے مفید، مضبوط تر ریل، شاہراتی، فضائی اور سمندری رابطوں کے ذریعے وسیع تر تجارتی و اقتصادی شراکت داری کا خواہاں …

استنبول ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اپنے مواصلاتی و توانائی انفراسٹرکچر کی بہتری اور علاقائی رابطے کے فروغ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان ڈی ایٹ رکن ممالک کے ساتھ سب کے لئے مفید، مضبوط تر ریل، شاہراتی، فضائی اور سمندری رابطوں کے ذریعے وسیع تر تجارتی و اقتصادی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ ڈی ایٹ میں بہت زیادہ مواقع اور وسائل پائے جاتے ہیں، مجموعی صلاحیت کو عملی جامہ پہنانے اور اپنے اجتماعی وسائل سے بھرپور استفادہ کے لئے ہر سطح پر اور ہر میدان میں ہمارے درمیان تعاون اور اشتراک کار کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعہ کو یہاں ترکی کی میزبانی میں 9 ویں ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان نے، جو 2012ءسے ڈی ایٹ کا چیئرمین بھی تھا، افتتاحی نشست میں ڈی ایٹ کی سربراہی ترکی کے حوالے بھی کی۔ 9 ویں ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کا موضوع ”تعاون کے ذریعے وسعت پذیر مواقع“ تھا۔ اس کانفرنس میں نائجیریا کے صدر محمدو بوہاری، آذربائیجان کے رہنما الہام علیوف، ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری اور انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کلا نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مواصلاتی رابطوں کے ذریعے نمو و ترقی ”جنوب جنوب تعاون“ کی ایک عمدہ مثال ہے، ہم نہ صرف ممکنہ طور پر سڑکوں اور ریل راستوں بلکہ مضبوط فضائی اور سمندری رابطوں کے ذریعے ڈی ایٹ رکن ممالک کے ساتھ اسی قسم کی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔

Leave a Reply