بیجنگ۔28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک سڑک ایک خطے (بی آر آئی) کا ویژن مشترکہ خوشحالی اور باہمی رابطوں کے فروغ کے حوالے سے دنیا کے لئے ایک اہم اقدام ثابت ہو گا،سی پیک میں انسانی فلاح و بہبود ، سماجی ترقی اور زرعی شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، توقع ہے کہ چین کے سرمایہ کار مخصوص اقتصادی زونز میں سرمایہ …
وزیراعظم عمران خان کی چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
بیجنگ۔28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک سڑک ایک خطے (بی آر آئی) کا ویژن مشترکہ خوشحالی اور باہمی رابطوں کے فروغ کے حوالے سے دنیا کے لئے ایک اہم اقدام ثابت ہو گا،سی پیک میں انسانی فلاح و بہبود ، سماجی ترقی اور زرعی شعبہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، توقع ہے کہ چین کے سرمایہ کار مخصوص اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے صنعتی ترقی اور قومی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو یہاں منعقدہ دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم ( بی آرایف) کے اختتام پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں دونوں وزرائے اعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفود بھی موجود تھے۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور چین کی لازوال اور ہر طرح کی گھڑی میں مضبوط ثابت ہونے والی دوستی کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے کامیاب انعقاد پر چینی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک سڑک ایک خطے (بی آر آئی) کا ویژن مشترکہ خوشحالی اور باہمی رابطوں کے فروغ کے حوالے سے دنیا کے لئے ایک اہم اقدام ثابت ہو گا۔ دونوں رہنمائوں نے سی پیک کے تناظر میں دو طرفہ تعاون کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا اور انہوں نے مستقبل میں اقتصادی رابطوں کو مزید گہرا کرنے کے ممکنہ امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے سی پیک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس کی ترقی کے نئے شعبوں تک توسیع پر اطمینان کااظہار کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سی پیک میں انسانی فلاح و بہبود ، سماجی ترقی اور زرعی شعبوں کے حوالے سے کہا کہ یہ شعبے ہمارے اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ چین کے سرمایہ کار مخصوص اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے پاکستان کی صنعتی ترقی کے اضافہ میں مدد کے ساتھ ساتھ قومی برآمدات کے فروغ میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔ نومبر 2018ء میں چین کے پہلے دورے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے باہمی تعاون کے فروغ میں مدد ملی ہے۔ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے سی پیک کے منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے سے دونوں ممالک کی تجارت اور اقتصادی تعلقات کے مزید اضافے میں مدد ملے گی۔دونوں رہنمائوں نے سیاست، سیکورٹی ، معیشت، تعلیم ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ثقافت اور لوگوں کے لوگوں سے رابطوں کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کی موجودہ صورتحال جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے افغانستان میں امن کی کاوشوں اور جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام سمیت مختلف علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے قریبی باہمی تعاون کاجاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے پاک چین آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر چین پاکستان آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے، ایم ایل ون کے پہلے مرحلے کے ابتدائی ڈیزائن کی تیاری اور حویلیاں میں سی پیک کے تحت ڈرائی پورٹ کے قیام، پاکستان اور چین کے جیالوجیکل سرویز کے درمیان بحری سائنسز میں تعاون، چین کی وزارت قدرتی وسائل اور انسٹیٹیوٹ آف اوشینوگرافی اور پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے علاوہ سی آئی ڈی سی اے اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات کے درمیان سی پیک کے مشترکہ ورکنگ گروپس کے سماجی اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کے موقع پر پاکستان اور چین نے اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے سمیت رشکئی مخصوص اقتصادی زون کے مشترکہ منصوبے اور کے پی ای زیڈ ایم ڈی سی اور سی آر بی سی کے درمیان لائسنس کے معاہدے پربھی دستخط کیے ہیں







