اسلام آباد ۔ یکم مئی (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کسی شارٹ کٹ سے نہیں،عوام کے ووٹوں اور کارکنوں کی جدوجہد سے اقتدار میں آئی ہے،ہم ہی پاکستان کو اس بحران سے نکالیں گے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی والے کرپشن کا پیسہ بچانے کیلئے شور مچا رہے ہیں،ان کے مفادات پاکستان کے مفادات سے متصادم ہیں ،ان کے مطابق جمہوریت کا مطلب …
وزیراعظم عمران خان کا پاکستان تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم مئی (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کسی شارٹ کٹ سے نہیں،عوام کے ووٹوں اور کارکنوں کی جدوجہد سے اقتدار میں آئی ہے،ہم ہی پاکستان کو اس بحران سے نکالیں گے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی والے کرپشن کا پیسہ بچانے کیلئے شور مچا رہے ہیں،ان کے مفادات پاکستان کے مفادات سے متصادم ہیں ،ان کے مطابق جمہوریت کا مطلب چوری بچانا ہے، انہیں این آر او کسی صورت نہیں ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 23 سالہ جدوجہد پر کارکنان کو اسلام پیش کرتا ہوں۔ سیاست میں نشیب وفراز اور اچھا برا وقت آتا رہتا ہے لیکن جہد مسلسل سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے پہلے اللہ نے مجھے شہرت اور عزت سے نوازا تھا۔ میں سیاست میں خدمت کیلئے آیا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایمان سے نوازا ہے اور میری زندگی کا مقصد ذاتی فائدے سے نکل کر لوگوں کی خدمت ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں اللہ کو جوابدہ ہوں جب اللہ عزت دیتا ہے تو بڑی ذمہ داری بھی دیتا ہے اور اس ذمہ داری کے بارے میں آخرت میں حساب دینا ہوگا۔ 65 ء کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، پاکستانی حکمران کا دنیا میں احترام تھا لیکن ہمارے حکمران ملک کی بجائے اپنے مفاد میں سوچنے لگے۔ انہوں نے چوری کرکے ملک کو اور نظام کو تباہ کر دیا ، جب حکمران اپنی چوری ختم کرتے ہیں تو اس سے ملک ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان حضرت محمدۖ کے اسوہ حسنہ سے رہنمائی حاصل کریں۔ ریاست مدینہ مثالی ریاست تھی۔ میرے رول ماڈل حضرت محمدۖ ہیں ،کوشش اور نیت انسان کے ہاتھ میں ہے لیکن کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کامیابی کیلئے چالیس سال جدوجہد کی، نیلسن منڈیلا 27 سال جیل میں رہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ کچھ لوگ سیاست کو مشن سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی ذات کیلئے سیاست کرتے ہیں۔ مشکل وقت سے نہیں گھبرانا چاہئے۔ جدوجہد مضبوط کرتی ہے اور کامیابی دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو جدوجہد کے ذریعے اس مقام پر پہنچی ہے۔ وہ کسی شارٹ کٹ سے نہیں آئی اور نہ ہی کسی جنرل جیلانی نے اسے بیٹھایا اور نہ ہی یہ کامیابی ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ ہم نے یہ کامیابی محنت سے حاصل کی اور یہی پارٹی پاکستان کو اس بحران سے نکالے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن نظریہ پاکستان تھا جس کی بنیاد اسلامی فلاحی ریاست پر رکھی گئی، یہ خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا جس کا تصور انہوں نے ریاست مدینہ سے لیا تھا۔ جب مسلمانوں نے ریاست مدینہ کے اصول اپنائے تو انہیں کامیابی ملی لیکن جب وہ ان اصولوں سے دور ہوگئے تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کا مسئلہ بھی یہی ہے لیکن ہم اسے اسلامی فلاحی ریاست بنا کر ریاست مدینہ کے طرز پر تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو ابتدائی الیکشن میں اتنی زیادہ کامیابی نہ ملی جس سے تجزیہ کاروں نے یہ کہا کہ تحریک انصاف ختم ہوگئی ہے لیکن 2018ء کے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی دلائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دس سال کے دوران پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتیں ملک کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک لے گئیں جو کہ 2008ء تک صرف چھ ہزار ارب روپے تھا۔ جب پانچ سال بعد ہماری حکومت ختم ہوگی تو توقع ہے کہ یہ قرضہ 20 ہزار ارب روپے ہوگا اور یہ ہماری حکومت کی کامیابی ہوگی۔ سابق حکومتوں کی کاکردگی سے متعلق قوم کو بار بار آگاہ کروں گا تاکہ انہیں پتہ چلے کہ تبدیلی آرہی ہے۔ مخالفین شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور تحریک انصاف پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ مشکل میں ہیں ، ہمیں مہنگائی کا احساس ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھی ہے ہم تیل کی قیمت نہیں بڑھائیں گے تو قرضہ بڑھے گا اور روپے کی قدر گر جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو کرنٹ اکائونٹ خسارہ 19 ارب ڈالر تھا جب 2013ء میں نون لیگ کی حکومت آئی تھی تو اس وقت کرنٹ اکائونٹ خسارہ اڑھائی ارب ڈالر تھا۔ خسارہ زیادہ ہونے سے روپے پر دبائو بڑھتا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کے دور میں مہنگائی کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح 21.7 فیصد تھی مسلم لیگ (ن) کے دورہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد تھی جبکہ ہماری حکومت کے ابتدائی آٹھ میں مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے۔ پنجاب میں جب مسلم لیگ (ن) ختم ہوئی تو خسارہ 11سو ارب روپے تھا لیکن جب پانچ سال کے بعد خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت ختم ہوئی تو ہم نے 140 ارب روپے سرپلس میں چھوڑے ہیں۔ پنجاب میں شہبازشریف نے 60 ارب روپے کے جو چیک دیئے تھے وہ بائونس ہوگئے ہیں۔ وہ سرکاری ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کے 120 ارب روپے بھی کھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو پبلک سیکٹر کے اداروں کا خسارہ 538 ارب تھا لیکن جب 2018ء میں ہمیں حکومت ملی تو یہ خسارہ 13 سو ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ نون لیگ کی حکومت آنے پر بجلی کا گردشی قرضہ چار سو ارب روپے تھا اور ہمیں ورثہ میں 12 سو ارب روپے کا قرضہ ملاہے۔ پی آئی اے اور ریلوے سمیت مختلف ادارے خسارے کا شکار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اللہ کا تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری جماعتیں اکٹھی ہو کر حکومت کے ناکام ہونے اور وہ اسلام آباد آنے کا شور مچا رہے ہیں حالانکہ ان کے دور میں مہنگائی زیادہ تھی۔ ہم نے تو شور نہیں مچایا جس پر ہمیں فرینڈلی اپوزیشن کہا گیا۔ ہم نے تو صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا جس کیلئے ہمیں دھرنا دینا پڑا۔ یہ تو ہماری حکومت کے بننے کے پہلے دن سے حکومت جانے اور اسلام آباد میں آنے کی باتیں کر رہے ہیں کیونکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی کرپشن سامنے آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت ان کی کرپشن کی بیرون ممالک سے معلومات مل رہی ہیں۔ 90ء کی دہائی میں پیسہ چوری کرکے بیرون ملک بھیجا گیا ۔حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ان کی چوری پکڑی گئی۔ عدالت نے ٹیکنیکل بنیادوں پر انہیں بچا لیا۔ جعلی بینک اکائونٹس کیس میں زداری اور اومنی گروپ سامنے آئے ہیں۔ 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک ہی اکائونٹ میں بلاول اور ایان کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں شریف خاندان کی کرپشن پکڑی گئی ہے۔ انہوں نے ہنڈی اور حوالے کے ذریعے بیرون ملک رقوم بھیجیں اور جعلی ناموں سے واپس منگوائیں۔ جو منی چینجر حمزہ شہباز کو پیسے بھیج رہا تھا وہی آصف زرداری کو بھیج رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ان کا خیال تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں بن سکتی لیکن عوام کے ووٹوں سے ہماری حکومت بنی۔ ان کی چوری کے باعث پاکستان پر قرضہ چڑھا۔ انہوں نے پکڑے جانا ہے۔ وہ پیسے بچانے کیلئے حکومت گرانے کے چکر میں ہیں۔ ان کے پیسے باہر پڑے ہیں۔ روپے کی قدر گرتی ہے تو ان کی رقم بڑھتی ہے۔ ان کے مفادات پاکستان کے مفادات سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق جمہوریت کا مطلب چوری بچانا ہے۔ وہ این آر او کیلئے اسمبلی میں دبائو ڈال رہے ہیں اب انہیں این آر او کسی صورت نہیں ملے گا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے شریف فیملی کو حدیبیہ پیپر ملز میں اور آصف زرداری کو سوئس اکائونٹس کیس میں این آر او دیا۔ میں اللہ کو جواب دے ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نوازشریف چاہتے ہیں کہ وہ علاج کیلئے بیرون ملک جائیں۔ ان کا یہ کیس عدالت میں ہے ۔ یہ لوگ 20 سال اقتدار میں رہے انہوں نے کئی فیکٹریاں اور کمپنیاں بنا لی ہیں لیکن ایک ڈھنگ کا ہسپتال نہیں بنا سکے جس میں ان کا علاج ہوسکے۔ اسحاق ڈار، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور ان کے اہلخانہ کا علاج بیرون ملک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان میں طاقتور اور کمزور کیلئے ایک قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے غربت کے خاتمہ کیلئے احساس پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام سے نچلے طبقے کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ چھوٹے مزدور کسان اور فٹ پاتھ پر سونے والے پسماندہ طبقے کے لوگ اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ اس معاملے پر چین سے بھی تعاون حاصل کر رہے ہیں۔ ریاست مدینہ میں بھی کمزور طبقوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری تھی۔ ریاست کیلئے تب قوم کھڑی ہوتی ہے جب ریاست قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ ان کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر پر کام شروع کر دیا ہے۔ گھروں کا یہ منصوبہ غریب طبقے کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاحت کا مرکز بنائیں گے۔ پاکستان میں مذہبی سیاحت اور پہاڑی سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے اندر سیاحت کیلئے راغب کریں گے۔ سیاحت سے اتنی آمدن ہوگی کہ ہم کرنٹ اکائونٹ خسارہ پر قابو پا لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بہترین بلدیاتی نظام رائج کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے نوجوان کارکن بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے خود کو تیار کریں۔ شہروں کو ٹھیک کرنے کیلئے ہم نے بہترین بلدیاتی نظام وضع کیا ہے اب شہروں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات کو بھی سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے چین سے زرعی ٹیکنالوجی لائیں گے جس سے پیداوار میں اضافہ ہوگا اور خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے وزیراعظم ہائوس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے گی جس میں مصنوعی دانش سمیت جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی سہولت کیلئے صحت کارڈز شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایگزون سمندر میں ڈرلنگ کر رہا ہے دو ہفتوں میں پتہ چل جائے گا کہ وہاں سے کتنی گیس نکلے گی۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق اس منصوبے سے اتنی گیس نکلے گی جو پچاس سالہ ضروریات کیلئے پوری ہوگی اس سے ملکی مسائل حل ہوں گے اور پاکستان خطے میں سب سے زیادہ ترقی کرے گا۔







