بیجنگ ۔ 28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے چین کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان میں موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھائیں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زونز میں اپنی صنعتیں منتقل کریں۔ وہ اتوار کو یہاں پاکستان چین ٹریڈ و انویسٹمنٹ فورم کے شرکاءسے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام …
وزیراعظم عمران خان کا پاکستان چین ٹریڈ و انویسٹمنٹ فورم کے شرکاءسے خطاب

مزید خبریں
بیجنگ ۔ 28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے چین کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان میں موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھائیں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زونز میں اپنی صنعتیں منتقل کریں۔ وہ اتوار کو یہاں پاکستان چین ٹریڈ و انویسٹمنٹ فورم کے شرکاءسے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام وزارت تجارت نے کیا تھا، فورم میں 370چینی کمپنیاں اور کاروباری افراد جبکہ پاکستان سے 70کمپنیوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سرمایہ کاری کے راستے میں حائل مشکلات دور کرنے اور چینی کاروباری افراد کے لئے پاکستان میں کاروبار آسان بنانے کے لئے ان کی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مراعات اور ٹیکس میں رعایتوں کی پیشکش کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ اپنے ممالک کو برآمدات کے لئے پاکستان کو مرکز کے طور پر استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ حکومتوں نے ایکسپورٹ انڈسٹری کے قیام کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی تاہم موجودہ حکومت نے اس حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کی اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ ہم نہ صرف ایکسپورٹرز کی مدد کر رہے ہیں بلکہ انہیں پاکستان میں اپنی کمپنیاں منتقل کرنے کے لئے تاجروں اور کاروباری افراد کو مراعات بھی دے رہے ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دو شاہراﺅں سے ہوا تھا جبکہ اب اسے پاکستان کی جان زراعت میں تعاون کی سمت لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے تعاون سے زرعی مصنوعات میں بڑھوتری سے اقتصادی ترقی بہتر ہو گی، ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی بے مثال قربانیوں کے طفیل اس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مشکل سیکیورٹی صورتحال کا خاتمہ کیا۔ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن عمل میں مدد کر رہا ہے اور پہلی بار افغانستان کے مسئلے کے پرامن اور سیاسی حل کے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں اور توقع ہے کہ انتخابات کے بعد نئی حکومت کے اقتدار میں آنے پر بات چیت کا عمل ایک بار پھر بحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے جسے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی وجود انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کے ایک طرف دنیا کی ایک بڑی مارکیٹ چین ہے جبکہ دوسری بڑی مارکیٹ بھارت دوسری طرف واقع ہے جبکہ توانائی کے ذرائع سے مالا مال ملک اس کے مغربی سمت واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سے تقریباً 11کروڑ 30سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ پاکستان کے لئے مستقل اور اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آرٹیفشل انٹیلیجنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نوجوان آبادی سے متعلقہ دیگر مضامین کی تدریس کےلئے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام میں چین کا تعاون چاہتے ہیں۔ بیلٹ و روڈ فورم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کے لیڈروں نے اس دو روزہ ایونٹ میں شرکت کی۔ انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ بیلٹ و روڈ انیشیٹو میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے، یہ رابطوں اور خوشحالی میں شراکت داری کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک اب ماحولیاتی تبدیلیوں سے پریشان ہیں اور وہ اس کے اثرات میں کمی کے لئے اقدامات چاہتے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر دستخط کے بعد دوطرفہ تجارت کا حجم اور تاجروں کے درمیان باہمی تعاون بڑھے گا۔ پاکستان کو چینی مارکیٹوں تک وسیع رسائی مل سکے گی اور زراعت اور روزگار کے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ چینی ایگروفرمز پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہے کیونکہ پاکستان سے خوراک کی مصنوعات کی درآمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ پاکستان بزنس کونسل کے وائس چیئرمین ثاقب شیرازی، چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے بھی خطاب کیا۔







