اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب رہا‘ پاک چین دوستی لازوال ،مختلف معاہدوں پر دستخط کئے گئے، ایم ایل ون منصوبے سے کراچی سے پشاور تک دو رویہ سڑکیں بنائی جائیں گی‘ بلاول بھٹو پارلیمان کا وقت ضائع کر رہا ہے‘ سندھ کے سرکاری گودام سے اربوں روپے کی گندم چوری ہوئی‘ بلاول بھٹو …
وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب رہا‘ پاک چین دوستی لازوال ، ایم ایل ون منصوبے سے کراچی سے پشاور تک دو رویہ سڑکیں بنائی جائیں گی ، پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب رہا‘ پاک چین دوستی لازوال ،مختلف معاہدوں پر دستخط کئے گئے، ایم ایل ون منصوبے سے کراچی سے پشاور تک دو رویہ سڑکیں بنائی جائیں گی‘ بلاول بھٹو پارلیمان کا وقت ضائع کر رہا ہے‘ سندھ کے سرکاری گودام سے اربوں روپے کی گندم چوری ہوئی‘ بلاول بھٹو کا تحقیقات اور اس حوالے سے بیان نہ دینا افسوسناک ہے۔ پیر کو پارلیمانی سیکرٹری قانون و انصاف ملائکہ بخاری‘ کنول شوزب اور رکن قومی اسمبلی غزالہ سیفی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین میں بیلٹ روڈ کانفرنس میں شرکت کی۔ بہت سے معاہدوں پر دستخط ہوئے‘ ان سے پاکستان کی معیشت اور مضبوط ہوگی۔ جبکہ ایکسپورٹ بڑھے گی۔ پاکستانی مصنوعات کو چین کی مارکیٹ میں رسائی ملے گی۔ اب ملکی تاریخ بدلنے جارہی ہے۔ ماضی کے حکمرانوں نے غریب کی سواری ریلوے کی حالت نہیں بدلی۔ وزیراعظم کے دورہ چین میں جو معاہدے ہوئے ان میں ایم ایل ون جو اٹھارہ سو کلو میٹر پر مبنی ہے پشاور سے کراچی تک دو رویہ ریلوے ٹریک بنایا جائے گا جس سے ریل گاڑی 160 کلو میٹر کی رفتار سے سفر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے دنیا کو پاکستان میں سیاحت ‘ تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کیا ہے جس کو دنیا نے سراہا ہے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری پارلیمان کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ وہ چوروں کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ سندھ کے سرکاری گوداموں سے اربوں روپے کی گندم چوری کرکے مٹی بوریوں میں بھر دی گئی ہیں۔ بلاول بھٹو کا اس حوالے سے کوئی بیان نہیں آیا۔ کیا وہ اتنی بڑی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے تحقیقات نہیں کروائیں گے۔ سندھ کی غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالا چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عید کا چاند بن گئے ہیں، وہ برطانیہ میں ہیڈ کیپ پہن کر بھی سٹاپس پر نظر آرہے ہیں۔ ان کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا گیا، کیا پی اے سی کی میٹنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی جبکہ نواز شریف کا علاج ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔ وہ بس صرف کرپشن چھپانے کے لئے لندن جانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ کرپشن بچانے کے لئے اقتدار چاہتے ہیں، ان کے بچے اور سمدھی اسحاق ڈار مفرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بیرون ملک جائیداد نہیں۔ آج عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جارہا ہے۔ شہباز شریف‘ آصف زرداری‘ نواز شریف سب کی منزل اڈیالہ جیل ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی چالیس سالہ ناکامیاں ہیں دوسری جانب حکومت ان ناکامیوں کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہے۔ عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جو وزراءکی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی نان سٹیک ہولڈر کو پاکستان کے عوام کے امیج کو خراب نہیں کرنے دیں گے۔ نان سٹیک ہولڈر چاہے پی ٹی ایم ہو ملک کے خلاف سرگرمیاں نہیں کرنے دیں گے۔ اس موقع پر پلاننگ ڈویژن کی پارلیمانی سیکرٹری کنول شوذب نے کہا کہ بار بار سندھ کی طرف سے بیانات آرہے ہیں۔ سندھ کے سرکاری گوداموں کے اربوں روپے کی گندم چوری کرکے بوریاں مٹی سے بھر دی گئیں کیا اب سندھ حکومت سندھ کی عوام کو مٹی کھلائیں گے۔ سندھ میں 18ویں ترمیم کے بعد پی پی کی گیارہ سالوں سے حکومت قائم ہے‘ تعلیم‘ صحت‘ سمیت تمام شعبے بری طرح متاثر ہیں۔ آج کراچی میں تین مزید بچے ہلاک ہوگئے ہیں جو سندھ حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔ اب صوبے بانٹنے کی تحریک کی آواز نکلی ہے جبکہ پنجاب میں سابق حکومت کی پانچ ارب روپے کی ادویات کی کرپشن نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے اوپن مارکیٹ میں 24 بلین ڈالر رکھ کر ملکی معیشت کو مصنوعی طور پر روکے رکھا۔ اس موقع پر وزارت قانون و انصاف کی پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن شروع دن سے حکومت کے خلاف نامناسب رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ پاکستان کے عوام کے لئے انصاف کا نظام ضروری ہے۔ اس پر کام کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن ذاتیات پر اتر آئی ہے۔ صرف اپنی ذات کے لئے ایوان میں آواز بلند کرتی ہے۔ یہ اپنی کرپشن کو ایوان کے پیچھے چھپانا چاہتی ہے اس موقع پر تحریک انظافی کی غزالہ سیفی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار کراچی پر ہے۔ کراچی والے اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم میں مزید ترمیم کرکے کراچی کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔







