وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ مالی سال 2019-20ء کے آئندہ بجٹ میں ملک میں اقتصادی استحکام پر توجہ مرکوز کی جائے گی جبکہ حکمران جماعت کے منشور کے مطابق معاشرے کے کمزور طبقات کی بہبود کیلئے بھی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ …

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ مالی سال 2019-20ء کے آئندہ بجٹ میں ملک میں اقتصادی استحکام پر توجہ مرکوز کی جائے گی جبکہ حکمران جماعت کے منشور کے مطابق معاشرے کے کمزور طبقات کی بہبود کیلئے بھی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ بجٹ پائیدار ترقی کے فروغ کیلئے مالیاتی اور زری پالیسیوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کا حامل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے اور دیگر دنیا کے ساتھ روابط استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت افراط زر کے مسئلے سے نبردآزما ہونے پربھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے تاہم تیل اور دیگر چیزوں کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی سطح پرہوتا ہے لہٰذا ان کو کنٹرول کرنا حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اس لئے ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ درآمدات بالخصوص پرتعیش اشیاء کی درآمدات کو کم کرنے کیلئے مجموعی طلب کو کم کرتے ہوئے مالیاتی اور زری پالیسیوں کا امتزاج پیدا کریں تاکہ عام لوگوں کی زندگیوں پر اس عنصر کا اثر کم سے کم ہو۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ انتخابی منشور اور حکمران جماعت کے نظریے کی بنیاد پر حکومت معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقے کی بہبود کیلئے سماجی تحفظ پر توجہ مرکوز کرے گی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں مشکلات دور کرنے کیلئے زیادہ وسائل تلاش کرنا ہونگے اور انہیں سہولت دینی ہو گی جو معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں میں اضافہ کرنا ہو گا جنہیں ”احساس” پروگرام کی چھتری تلے مربوط کیا گیا ہے تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر سوچ بچار کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ دولت صحیح ہاتھوں میں جائے۔ انہوں نے سرکاری کنٹرول کے تحت کمپنیوں کی صلاحیت سے بھرپور استفادے کیلئے نجکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2003ء اور 2006ء کے دوران تقریباً بجلی، ٹیلی مواصلات اور حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک جیسے بڑے بینکوں کے شعبوں سمیت 34 کمپنیوں کی نجکاری کی گئی اور ان تین سالوں کے اندر قومی خزانے میں چارسے پانچ ارب ڈالر کے قریب جمع ہوئے تاہم انہوں نے کہا کہ 2006ء کے آغاز سے یا گزشتہ 13 برسوں کے دوران ایک کمپنی کی بھی نجکاری نہیں کی گئی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ فنڈ معاشی عدم توازن کا شکار اقتصادیات کی مدد کیلئے ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور یقیناً اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی موزوں پروگرام طے پائے جس سے پائیدار اقتصادی استحکام کیلئے پلیٹ فارم تشکیل پائے گا۔

مزید خبریں

Leave a Reply