وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے کی سالانہ گندم کی ضرورت مقامی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث باقی ضرورت دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب سے گندم خرید کر پوری کی جاتی ہے۔
وزیر اطلاعات کے پی کا خیبر پختونخوا میں گندم کی پیداوار ، ترسیل کی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق پریس کانفرنس

مزید خبریں
پشاور۔ 13 جولائی (اے پی پی):پشاور:وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی گندم کی سالانہ ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار 537 میٹرک ٹن ہے،سال 2026 میں گندم کی مقامی پیداوار 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن رہی، صوبے کو سالانہ 38 لاکھ 4 ہزار 537 میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا رہتا ہے جو دیگر صوبوں خصوصاً صوبہ پنجاب کے کسانوں سے خریدی جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار کے ہمراہ پریس کا نفرنس کرتے ہوئے کیا۔شفیع جان نے کہا کہ اس وقت سرکاری فوڈ گرین گوداموں میں 1 لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا تخمینہ شدہ ذخیرہ 1 لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 1 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے جس میں 250 ہزار میٹرک ٹن گندم وصول کی جا چکی ہے،باقی 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کے لیے ایم او یو پر دستخط اور پیشگی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قومی اقتصادی کونسل میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا -انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں این ایف سی ، این ایچ پی اور گندم و آٹے کی ترسیل کے حوالے سے صوبے کا مقدمہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے مقامی کاشتکاروں سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے،قیمت فی 40 کلوگرام تین ہزار پانچ سو روپے کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی سے متعلق نگرانی کی جارہی ہے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پنجاب حکومت بین الصوبائی تجارت سے متعلق آئین پاکستان کے آرٹیکل 151 کی روح کے منافی گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رہی ہے،ان اقدامات سے خیبر پختونخوا میں سپلائی متاثر ہونے، قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی گندم کی صورتحال کی باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیےآئینی اور پارلیمانی فورم سے رجوع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت و پنجاب کو 15 مراسلے ارسال کیے ،وزیراعلی سہیل آفریدی نے گورنر اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اکٹھا کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں فوری طور پر بلا رکاوٹ گندم اور آٹے کی ترسیل یقینی بنائیں،غیر ضروری پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ کی مسلسل نگرانی، اسٹریٹیجک ذخائر کے تحفظ اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے صوبے بھر میں گندم اور آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بناتا رہے گا۔








