پشاور۔02 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست میں اصل چیز نظریہ ہے، ہمارا نظر یہ عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی پر مبنی معاشرے کا قیام ہے اور ہم اسی نظریے پر کار بند رہتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ، وہ جمعرات کو ضلع مہمند میں مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، …
وزیر اعظم عمران خان کامہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
پشاور۔02 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست میں اصل چیز نظریہ ہے، ہمارا نظر یہ عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی پر مبنی معاشرے کا قیام ہے اور ہم اسی نظریے پر کار بند رہتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ، وہ جمعرات کو ضلع مہمند میں مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، وزیر اعظم نے کہا کہ کرسی بچانے اور اپنے مفادات کیلئے جدوجہد کرنے والا انسان لیڈر نہیں ہو تا لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوامی فلاح کے نظریے کے تحت ملک و قوم کی اجتماعی بھلائی کیلئے کام کرتا ہے ، جن سابقہ حکمرانوں نے ملک کو لوٹا وہ اپنی چور یاں بچانے کیلئے شور مچا رہے ہیں کہ جمہوریت اور ملک خطرے میں ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ نہ کوئی این آر او ہوگا اور نہ چوروں کو کوئی ریلیف ملے گا ،ہمارا مقصد ملک سے کرپشن اور طبقاتی نظام ختم کرنا ہے اور اس مقصد کیلئے جدوجہد جاری ہے ،انھوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں بعض مخصوص علاقوں کو اٹھایا گیا جبکہ اکثریتی علاقے پسماندہ رہ گئے ، مثال کی طور پر لاہور کی ترقی کیلئے تو فی کس70ہزار خرچ کیے جاتے رہے لیکن راجن پور میں 2500روپے فی کس خرچ کئے گئے ، انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کے پسماندہ علاقوں کو یکساں بنیادوں پر ترقی دینے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ جس علاقے کے کسی منصوبے سے پورے ملک کی فلاح و بہبود کا مقصدحاصل کیا جا رہا ہو اس علاقے کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے ایسا نہ ہو جیسے سوئی کے ساتھ ہو ا کہ سوئی سے گیس نکال کر پورے ملک کو فائدہ دیا گیا لیکن سوئی کے علاقے کو پسماندہ چھوڑ دیا گیا ۔ْ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ میں فلاحی ریاست کا بہترین ماڈل ریاست مدینہ ہے ، جس نے غریبوں اور بیوائوں کی ذمہ داری اٹھائی اور نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا، انھوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں پورے خطے میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا، یہاں ،منگلہ اور تربیلا جیسے منصوبے بنے تھے لیکن آج پاکستان سب سے پیچھے ہے کیونکہ اس ملک کو حقیقی قیادت نہیں ملی ، انھوں نے مثال دی کہ چین نے 30سال میں 70کروڑ لوگوں کوغربت سے نکالا اور بے پناہ ترقی کی جس کی وجہ یہ ہے کہ انکی قیادت ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف ملک کیلئے سوچتی ہے اور دور کی سوچ رکھتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ چین کی قیادت نے آج ہی سے اگلے 20سال کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے وہاں قیام امن بھی ضروری ہوتا ہے ، پاکستان کی فوج اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کو شکست دے کر ملک میں امن بحال کیا ہے جس کیلئے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ، انھوں نے کہا پاکستان میں اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے اور بیرونی سرمایہ کار یہاں آرہے ہیں ، وزیر اعطم نے کہا کہ وہ مہمند ڈیم کی تعمیر ممکن بنانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ خصوصاََ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار کے معترف ہیں اگرچہ یہ کام عد لیہ کے کرنے کا نہیں تھا تاہم چونکہ متعلقہ اداروں نے اپنے فرائض درست انداز میں سر انجام نہیں دیئے اس لئے یہ کام عد لیہ کو کر نا پڑا، انھوں نے کہا کہ ملک میں پانی کا شدید بحران ہے جس کے نکلنے کیلئے ہنگامہ بنیادوں پر کام کیرنے کی ضرورت ہے انھوں نے کہا مہمند ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے گا اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو کام میں لایا جائے گا ، انھوں نے کہا جب ہم غریبوں کیلئے 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہے تھے تو یہ بہت وقت طلب منصوبہ لگ رہا تھا تاہم چین کی ایک کمپنی نے اپنی خدمات پیش کیں اور پیشکش کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جس میں ایک عمارت کی ایک منزل ایک ہفتے میں تیار کر لی جاتی ہے منصوبے کو تیزی سے مکمل کر لے گی ، اسی قسم کی ٹیکنالوجی مہمند ڈیم کی تعمیر میں بھی استعمال کی جانی چاہیئے ، انھوں نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں کو بڑے قریب سے جا نتے ہیں اور یہاں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں’ انھوں نے کہا کہ ‘ قبائلی عوام نے ملک کی حفاظت کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے انتہا مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کیا ‘ نقل مکانی کی جوکہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے ، انھوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایک سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے قبائلی باشندوں ، حکومت اور پاکستان بھر کے عوام کو ملکر نا کام بنانا ہو گا ، انھوں نے کہا قبائلی عوام کا احسا س محرومی ختم کر نا اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کیلئے تمام صوبوں نے اس این ایف سی ایوارڈ میں اس علاقے کیلئے تین فیصد خصوصی حصہ رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ، اس طرح یہاں سالانہ 100 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ‘ اور تعلیم و صحت سمیت تما م شعبوں کو بھر پور ترقی دی جائے گی ، انھوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ضلع مہمند میں تھری اور فور جی سروس سمیت دیگر مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ۔







