اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاہے کہ ہمیں صرف ایک اکنامک بلاک بنانے کی بجائے ایک کمیونٹی آف پاور کو فروغ دیناہوگا، اگر چین اور روس ہمارے باہمی تعاون کے فریم ورک میں آجائیں تو امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کامقابلہ کیاجاسکتاہے، وقت آگیا ہے کہ کمیونٹی آف پاور کوبنایاجائے کیونکہ سیاسی ماحول سازگار ہے …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاہے کہ ہمیں صرف ایک اکنامک بلاک بنانے کی بجائے ایک کمیونٹی آف پاور کو فروغ دیناہوگا، اگر چین اور روس ہمارے باہمی تعاون کے فریم ورک میں آجائیں تو امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کامقابلہ کیاجاسکتاہے، وقت آگیا ہے کہ کمیونٹی آف پاور کوبنایاجائے کیونکہ سیاسی ماحول سازگار ہے اور اس سیاسی ماحول کے ساتھ ہم اقتصادی بلاک کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔ وہ منگل کو یہاں "سٹریٹیجک اکنامک بلاک آف گولڈن رنگ کنٹریزبرائے امن ومعاشی استحکام” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ ڈاکٹرمزاری نے نئے گولڈن رنگ بلاک جس میں چین، ایران، پاکستان، روس اور ترکی شامل ہیں کے سٹریٹجک اقتصادی بلاک کے تصور پر شرکاءکو تفصیلی طور سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت جو مسائل ہمیں درپیش ہے ان میں امریکہ کی جانب سے ایران کے اوپر لگائی جانیوالی پابندیاں ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے برخلاف ہیں اور جن کی کوئی قانونی اور بین الاقوامی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے جے سی پی او اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے پیچھے ہٹااور ایران پر یک طرفہ پابندیاں عائد کیں جن کو کوئی بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں بلکہ یہ ایک سپر پاور کی جانب سے عائد کی گئی یک طرفہ پابندیاں ہیں، اگر چین اورروس ہمارے باہمی تعاون کے فریم ورک میں شامل ہوتے ہیں تو ان غیرقانونی پابندیوں کا مقابلہ کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ صحیح وقت ہے کہ کمیونٹی آف پاورز کو فروغ دیاجائے جس کیلئے سیاسی ماحول بھی ساز گارہے، ون بیلٹ ون روڈ کے اقدام سے ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور سی پیک اس کی مثال ہے۔ ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاکہ روس کو چاہئیے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس کمیونٹی آف پاور میں اپنا کردار ادا کریں ، ہمیں یک طرفہ تعلقات کو فروغ نہیں دیناچاہئے بلکہ ہمیں کمیونٹی آف پاورز کو فروغ دیناچاہئیے جہاں پر ہم معاشی مسائل کے علاوہ مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعا ون کریں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کچھ ممالک اقتصادی اورفوجی طاقت سے کمیونٹی کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں اقتصادی بلاک سے زیادہ وسیع نکتہ نظرکے تحت ایسی کمیونٹی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے، گولڈرنگ معاشی بلاک کو دیگر ممالک تک بڑھاناچاہئیے اور خطے کی ترقی اورمعاشی استحکام کیلئے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ،گولڈرنگ اکنامک بلاک کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ خطے کی ترقی اور امن کیلئے سکیورٹی ایک اہم عنصرہے۔ انہوں نے خطے کی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پر زوردیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایران کے حالیہ دورے کے دوران واضح طور پر کہاہے کہ ایران، ترکی اور پاکستان کے درمیان طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کے اقدام کے تحت چین کسی بھی کوآپریٹیوفریم ورک کالازمی حصہ ہوگا اورعلاقے میں اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ یورپی یونین بنیادی طور پراقتصادی بلاک ہے لیکن حقیقت میں سیاسی حالات کی وجہ سے یہ بلاک بناتھا، سیاسی دباو¿ ہی مختلف ممالک کواقتصادی بلاک بنانے پر مجبورکرتاہے۔ گولڈن رنگ اقتصادی بلاک کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹرشیریں مزاری نے تجویزدی کہ ہماری شراکت داری محدود نہیں بلکہ وسیع ہونی چاہئیے، وسیع اور طویل المدتی کمیونٹی آف پاورز کو فروغ دیاجاسکتاہے اور اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ہمیں مختلف ممالک کی حکومتوں کو شامل کرکے اس کمیونٹی پاورزکی طرف عملی قدم اٹھاناچاہئیے۔سیمینار میں گریف کے چیئرمین میجرجنرل (ر) انیس احمد باجوہ سمیت،گریف کے صدر حسنین رضا مرزا، پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفراللہ خان اوردیگرنے بھی خطاب کیا۔







