وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا سینیٹ کے وقفہ سوالات میں اظہار

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے قابل تجدید توانائی کی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے، ہم 2030ءتک مقامی وسائل سے 70 سے 75 فیصد بجلی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹرز طلحہ محمود، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، چوہدری تنویر اور سراج الحق کے …

اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے قابل تجدید توانائی کی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے، ہم 2030ءتک مقامی وسائل سے 70 سے 75 فیصد بجلی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹرز طلحہ محمود، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، چوہدری تنویر اور سراج الحق کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران چار درمیانے اور بڑے ڈیموں کی تکمیل کے ذریعے نظام میں 4.5 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ حکومت ملک میں چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قابل تجدید توانائی سے انرجی مکس 4 فیصد ہے جسے 2025ءتک 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گرین انرجی، تھرکول، قابل تجدید توانائی اور مقامی وسائل سے 2030ءتک 70 سے 75 فیصد بجلی حاصل کرنے کی منصوبہ بند کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو نہیں بڑھایا۔ اگر اس وقت اقدامات کئے جاتے آج پانی کا اتنا مسئلہ نہ ہوتا۔ موجودہ حکومت قلت آب پر قابو پانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے اجلاس کے دوران سینیٹرز سسی پلیجو، بہرہ مند تنگی اور مولا بخش چانڈیو کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں دو نئے بلاکس سورا اور تونگ کو پی پی ایل اور ایم پی سی ایل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے مجموعی ملکی ضروریات کا ساڑھے 31 فیصد تیل اور 64 فیصد گیس کی پیداوار آ رہی ہے۔وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں 12 کنوﺅں کی کھدائی کی گئی ہے جبکہ صوبہ سندھ میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کی 17 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply