وفاقی وزیر شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں توجہ دلاو نوٹس پر اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کراچی کے نجی ہسپتال میں معصوم بچی نشوا کی موت کے بعد توقع ہے کہ صوبے ایسے واقعات کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھائیں گے‘ جب تک ایسے واقعات پر سخت سزائیں نہیں دیں گے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے‘ اس کے لئے رولز وضع کئے جانے چاہئیں جبکہ توجہ دلاﺅ نوٹس کے دوران …

اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کراچی کے نجی ہسپتال میں معصوم بچی نشوا کی موت کے بعد توقع ہے کہ صوبے ایسے واقعات کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھائیں گے‘ جب تک ایسے واقعات پر سخت سزائیں نہیں دیں گے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے‘ اس کے لئے رولز وضع کئے جانے چاہئیں جبکہ توجہ دلاﺅ نوٹس کے دوران پیپلز پارٹی اور کراچی کے اراکین کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ بھی چلتا رہا‘ راجہ پرویز اشرف نے اس نجی ہسپتال کو ایم کیو ایم کے رکن کی ملکیت قرار دے دیا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں محمد عالمگیر خان اور دیگر نے کراچی میں ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹر کی غفلت کے باعث ایک معصوم بچی نشوا کی موت سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں وزارت صحت کی جانب سے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بتایا کہ اپریل میں کراچی میں تین واقعات ہوئے ہیں۔ ہمیں ایسے رولز و ریگولیشن بنانے چاہئیں کہ ہسپتالوں میں عملہ کی تعلیم چیک کرسکیں۔ ہسپتالوں میں انسپکشن ہونی چاہیے۔ توقع ہے کہ ان واقعات کے بعد صوبے اقدامات اٹھائیں گے۔ ایسے واقعات پر سخت قرار واقعی سزا جب تک نہیں دیں گے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی سطح پر نہ صرف سرکاری شعبے بلکہ پرائیویٹ ہسپتال کی مانیٹرنگ کے لئے رولز وضع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر کو اس معاملہ کا جواب دینا چاہیے۔ فہیم خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ان کو جواب دینا چاہیے۔ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے ان سے رپورٹ لی ہے۔ صوبائی حکومت رپورٹ نہیں دے رہی تھی۔ عطاءاللہ کے سوال کے جواب میں شیریں مزاری نے کہا کہ بچی کی موت کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ توجہ دلاﺅ نوٹس پر ہر متعلقہ رکن ایک سوال کرتا ہے اور متعلقہ وزیر اس کا جواب دیتا ہے۔ نشوا کی موت پر پورے پاکستان کو تشویش ہے۔ یہ ایک نجی ہسپتال تھا جہاں انجکشن لگایا گیا۔ ہیلتھ کمیشن نے رپورٹ دی کہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے اس کو مسترد کیا۔ کسی بھی صوبے یا علاقہ میں ایسے واقعات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ افسوسناک ہے۔ کیا دیگر صوبوں میں ایسے واقعات نہیں ہوتے۔ وزیراعلیٰ نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ یہ ایم کیو ایم کے رکن کا ہسپتال ہے اگر ارکان چاہتے ہیں تو ان کو بند کردیتے ہیں۔ سپیکر نے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان سے کہا کہ وہ ہاﺅس کے تقدس کا خیال رکھیں۔ پورا پاکستان آپ کو دیکھ رہا ہے۔ امین الحق نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر سزا کے طور پر اس ہسپتال کو بند کردیا گیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply