وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات، ایم ایل ون کو فلیگ شپ منصوبہ قرار دے کر تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے، احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات، ایم ایل ون کو فلیگ شپ منصوبہ قرار دے کر تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے، احسن اقبال

مزید خبریں
اولان باتور، منگولیا۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، علاقائی رابطہ کاری، معدنی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، ایم ایل ون اور برآمدات کے فروغ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب صرف معدنیات نکالنے کے بجائے انہیں اعلیٰ قدر کی مصنوعات میں ڈھالنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک اہم شراکت دار بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا کی اہم معدنیات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے کیئرک کا جنوبی گیٹ وے بن سکتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ نہایت کم ہے تاہم ملک موسمیاتی خطرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے اے ڈی بی پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے لیے الگ مالیاتی سہولت قائم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ 2022ء اور حالیہ سیلاب کے دوران عالمی برادری مطلوبہ مالی وسائل متحرک نہ کر سکی جبکہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے فراہم کیے گئے وسائل بھی قرضوں کی صورت میں تھے جس سے سماجی شعبے کے منصوبے متاثر ہوئے۔ انہوں نے موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے موجودہ ملکی مختص رقم سے زائد مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو موسمیاتی خطرات کی بروقت نشاندہی اور مالی وسائل کی موثر فراہمی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ایم ایل ون کو پاکستان کی معاشی و علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ہے کہ ایم ایل ون سے متعلق ضروری کارروائی جلد مکمل کرکے منصوبے کا سنگ بنیاد جلد رکھا جائے۔ انہوں نے اے ڈی بی پر زور دیا کہ ایم ایل ون کو اپنا اہم ترین فلیگ شپ منصوبہ سمجھتے ہوئے مکمل تعاون فراہم کرے۔انہوں نے پاکستان کی برآمدات کو 2035ء تک 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے اے ڈی بی کے ساتھ مشترکہ مطالعاتی پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔احسن اقبال نے کہا کہ ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر علاقائی رابطہ کاری سے کیئرک ممالک کو گوادر تک رسائی فراہم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ سال کیئرک کی صدارت سنبھالے گا اور اگلی وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔اس موقع پر اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، استحکام اور مسلسل اصلاحات ضروری ہیں۔انہوں نے ایم ایل ون کو پاکستان کے لیے اہم اور اے ڈی بی کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ماساتو کانڈا نے کہا کہ پاکستان میں اگلی کیئرک وزارتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے اے ڈی بی کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔
احسن اقبال نے پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کیئرک ممالک کے لیے مسابقتی علاقائی مالیاتی ونڈو قائم کرنے کی بھی تجویز دی جس کے تحت رکن ممالک علاقائی اثرات کے حامل مشترکہ منصوبے تیار کرکے مسابقتی بنیادوں پر مالی معاونت حاصل کرسکیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا کی اہم معدنیات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے جنوبی گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایم ایل ون ریلوے جدید کاری منصوبے کی تزویراتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام پہنچایا کہ منصوبے سے متعلق طریقہ کار کی تکمیل تیز کی جائے تاکہ جلد از جلد اس کا سنگ بنیاد رکھا جاسکے۔اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے یقین دلایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک ایم ایل ون کو ایک فلیگ شپ منصوبے کے طور پر مکمل تعاون فراہم کرے گا اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔








