اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خوراک کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے‘ وفاقی وزارت غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی‘ سندھ میں ناقص گندم کی خریداری کے معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے یا معاملہ نیب کو بھجوایا جانا چاہیے۔ …
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان کا قومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خوراک کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے‘ وفاقی وزارت غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی‘ سندھ میں ناقص گندم کی خریداری کے معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے یا معاملہ نیب کو بھجوایا جانا چاہیے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں انجینئر صابر حسین قائمخانی ‘ صلاح الدین ‘ سید امین الحق ‘ اسامہ قادری اور اقبال محمد علی خان کے سندھ میں پاسکو کی جانب سے ناقص گندم کی خریداری اور سندھ کے ذخائر میں اس کی موجودگی کے حوالے سے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی نے کہا کہ میڈیا میں بھی یہ خبریں آرہی ہیں کہ سندھ میں محکمہ خوراک کے گوداموں میں مٹی والی گندم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خوراک کا محکمہ اب صوبوں کے پاس چلا گیا ہے جو ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ہماری جماعت کو عوام نے احتساب کے لئے ووٹ دیئے ہیں۔ پاسکو میں ایک دانہ بھی گندم کا خوردبرد ہو تو اس کا میں جوابدہ ہوں۔ صوبوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائیں یا معاملہ نیب کو بھجوایا جائے۔ توجہ دلاﺅ نوٹس کے محرکین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں ناقص گندم کی خریداری کے معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔







