وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان کا پٹرولیم ڈویژن میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے دوران اظہارخیال

اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان نے پٹرولیم ڈویژن میں منگل کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا دونوں سوئی گیس کمپنیوں کے متوقع اخراجات پر مبنی گیس کی اوسط قیمت کا تعین کرتی ہے۔ حکومت مختلف چیزوں پر سبسڈی دیتی ہے مگر مجموعی حساب کو صحیح رکھا جاتا ہے۔ اوگرا کی سفارش کے باوجود جان …

اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان نے پٹرولیم ڈویژن میں منگل کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا دونوں سوئی گیس کمپنیوں کے متوقع اخراجات پر مبنی گیس کی اوسط قیمت کا تعین کرتی ہے۔ حکومت مختلف چیزوں پر سبسڈی دیتی ہے مگر مجموعی حساب کو صحیح رکھا جاتا ہے۔ اوگرا کی سفارش کے باوجود جان بوجھ کر2015ءسے گیس کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ماضی کی حکومت نے 2 سال تک گیس کی قیمت نہیں بڑھائی۔نتیجتاً ایس این جی پی ایل 141.8 ارب روپے کی رقم واپس نہ لے سکا۔اسی طرح ایس ایس جی سی 38.6 ارب روپے واپس نہ لے سکالہٰذا 30 جون 2018ءتک مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی نہ حاصل شدہ رقم جمع ہوگئی۔ اس حکومت کے آنے سے پہلے یہ اعداد و شمار گیس کمپنیوں کی آڈٹ شدہ اکاو¿نٹس اور اوگرا سے حاصل کیے جا سکتے تھے۔ پچھلی حکومت نے خود17مئی 2018ءکو منعقد ہونے والی ای سی سی کی میٹنگ میں اس غلطی کو تسلیم کیا۔ اس حکومت کے پاس قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھاجبکہ یہ کام پچھلی حکومت کو کرنا چاہیے تھا۔ وہ دونوں گیس کمپنیوں کو نقصان میں چھوڑ کر گئے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جون 2018ءکے اس شارٹ فال کے ساتھ گیس کی قیمت بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے تو وہ آڈٹ رپورٹس دیکھ لیں اور اوگرا سے بھی توثیق کرلیں۔گیس کا بحران حکومت کو ورثہ میں ملا دونوں گیس کمپنیوں کو بہتر بنانے کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔

مزید خبریں

Leave a Reply