اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ کے تمام جج جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطاءبندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد …
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ،مختلف انتظامی اور عدالتی امور زیر بحث لائے گئے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ کے تمام جج جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطاءبندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سعید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف انتظامی اور عدالتی امور زیر بحث لائے گئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے نئے جسٹس قاضی محمد امین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قاضی محمد امین کی تقرری ادارے کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو گی۔ فل کورٹ اجلاس کو بتایا گیا کہ زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کی رفتار تسلی بخش ہے، یکم جنوری سے 26 اپریل تک 7213 نئے مقدمات سپریم کورٹ میں رجسٹر ہوئے جبکہ اسی مدت کے دوران 6169 مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے مقدمات کے فیصلوں کے لئے بہترین کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عدالت عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ فل کورٹ نے زیر التواءمقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے سپریم کورٹ کی پانچ رجسٹریوں میں خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے دوران مقدمات کو جلد نمٹانے، عدالتی فرائض کی انجام دہی سمیت مختلف امور زیر بحث لائے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے گا تاکہ ایک معیاری تحقیقی کام کو فروغ دیا جا سکے۔







