اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس نے افغانستان کے دارلحکومت کابل میں گوردوارہ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں 1955 سے بھارت میں گوردواروں پر حملے ہوتے رہے ہیں،تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنن نے اپنے آڈیو ویڈیو پیغام میں سکھ برادری سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بھارت کے زیر قبضہ پنجاب میں …
کابل میں گوردوارہ پر دہشت گردوں کےحملے پر سکھوں کی عالمی تنظیم کی شدید مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس نے افغانستان کے دارلحکومت کابل میں گوردوارہ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں 1955 سے بھارت میں گوردواروں پر حملے ہوتے رہے ہیں،تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنن نے اپنے آڈیو ویڈیو پیغام میں سکھ برادری سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بھارت کے زیر قبضہ پنجاب میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کریں۔
انہوں نے کہاکہ خالصتان کے قیام کے بعد سکھوں کے خلاف ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی میں ملوث تمام افراد کا بین الاقوامی قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ایس ایف جے کے رہنما نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایس جی پی سی، ڈی ایس جی ایم سی جیسی سکھ تنظیمیں مودی حکومت سے مدد کی درخواست کی بجائے اگلے سال 26 جنوری کو خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کے لئے کھل کر حمایت کریں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ایف جے کی تحریک کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اوربھارت کا بدنام زمانہ جاسوس ادارہ را پورے یورپ میں سرگرم ہے اور خالصتان تحریک کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ اور مغرب میں پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہےس سلسلہ میں سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان سدھو سمیت دیگر سکھ رہنماؤں کی گرفتاریاں کی گئیں۔ سدھو موسے والا اوردیگر سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سکھ کسان رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں اسی مہم کا حصہ ہے ۔
رپورٹس کے مطابق بدنام زمانہ را دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ اپنے مضبوط روابط سے افغانستان میں سکھ برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے ۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بھارتی شہری افغانستان میں مختلف دھماکوں میں ملوث رہے ہیں۔رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ را کا بنیادی مقصد سکھوں میں دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی خالصتان تحریک ترک کردیں اوریہ کہا گیا ہے کہ سکھوں کے خلاف اس طرح کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ ہندو بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے ، خالصتان کا مطالبہ ترک نہیں کرتے اور اکھنڈ بھارت کا حصہ نہیں بن جاتے۔








