سی سی آر آئی کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے15 مارچ تک کیلئے سفارشات جاری کردیں

ملتان۔ 05 مارچ (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ( سی سی آر آئی )ملتان کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے15 مارچ تک کیلئےسفارشات جاری کردیں۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کےروزیہاں سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا دوسراکاٹن ایڈوائزری اجلاس ڈائریکٹرصباحت حسین کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں اگیتی کپاس کی کامیاب کاشت کے حوالےسےکاشتکا روں کے لیے پندرہ روزہ جامع سفارشات پیش کی گئیں۔ …

ملتان۔ 05 مارچ (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ( سی سی آر آئی )ملتان کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے15 مارچ تک کیلئےسفارشات جاری کردیں۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کےروزیہاں سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا دوسراکاٹن ایڈوائزری اجلاس ڈائریکٹرصباحت حسین کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں اگیتی کپاس کی کامیاب کاشت کے حوالےسےکاشتکا روں کے لیے پندرہ روزہ جامع سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکاربجائی کے25تا30 دن بعد اگیتی کپاس کی چھدرائی مکمل کرلیں اس سے پودوں کے درمیاں مناسب فاصلہ اور فی ایکٹر تعدادا برقراررکھنے میں مد د ملتی ہے۔

فاسفورس کھادچھدرائی کے بعد بذریعہ آبپاشی دیں یا کھیلیوں میں ڈال کر پانی لگا دیں یا وترکی حالت میں ڈال کرکھیلیوں میں گوڈی والا ہل چلا دیں۔ فاسفورس کھاد کی مقدارڈے اے پی ایک بوری یاٹی ایس پی ایک بوری یا ایس ایس پی تین بوریاں فی ایکڑ یا این پی دو بوریاں فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں اور ایسی زمینیں جہاں کپا س کے سرخ پتوں کا مسئلہ آرہا ہوتوکا شتکار حضرات ایک بوری پوٹاشیم اور10تا15 کلوگرام میگنیشیم فی ایکڑچھدرائی کے بعد استعمال کریں، کپاس کے پتوں کارنگ سرخ ہوجانا پوٹاشیم اورمیگنیشیم کی کمی بتایا گیا۔ اجلاس میں متوازکھادوں کے استعما ل کو یقینی بنانے کے لئے زمین کے تجزیہ پر خصوصی زور دیا گیا تاکہ کاشتکار تجزیاتی رپورٹ کو سامنے رکھ کرکھادوں کا پلان بہتراندازمیں کر سکیں۔

زمین کی تیاری کے لئے پانی اور کھا دوں کی بچت کے لئے لیزرلینڈ لیولر ضرور استعمال کریں۔ کھیت ہموار ہونے سے بارشوں میں پانی کھیت میں کھڑا نہیں رہےگا جس سے فصل بیماریوں سےمحفوظ رہے گی۔ کمزور زمینوں کی زرخیزی میں بہتری کے لیے کاشتکار کم از کم پانچ ٹرالی گوبر فی ایکڑ ڈالیں یا سبزکھاد کے لیے لگائی گئی فصل کو بجائی سے 30 دن پہلے زمین میں دبا دیں۔ زمین کی تیاری کے حوالے سے ہدایت کی گئی کہ نچلی سخت تہہ توڑنے کے لیے چیزل ہل چلایا جائے تاکہ جڑیں گہرائی تک پھیل سکیں۔

بجائی شروع کرنےسے پہلے کاشتکار10 فیصد اضافی بیج کا بندوبست کریں تاکہ چوکےلگانے کے لئے بیج موجود ہو۔کا شتکارصرف با اعتماد اداروں/کارپوریشنزسے منظور شدہ اور صحت مند بیج خریدیں، جس میں ٹرپل جین (Triple Gene) اقسام کو اولیت دی جائے کیونکہ یہ گلابی سنڈی اورگلائِفوسیٹ کے خلاف بہتر مدا فعت رکھتی ہیں۔اگیتی کپاس کی کھیلوں پر کاشت کے لیے 75 فیصد اگاؤ والا 6 تا 8 کلوگرام ‘بر اترا ہوا’ بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔ فصل کو ابتدائی 40 دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سےمحفوظ رکھنے کے لیے بیج کوامیڈا کلوپرڈ اورٹیبوکونازول کے مکسچر (10 ملی لیٹر فی کلو بیج) سے زہر آلود کرنا(سیڈ ٹریٹمنٹ)بہت ضروری ہے۔

کپاس کےکاشتکار ڈسکی کاٹن بگ کی آف سیزن مینجمنٹ کےلئے کھیتوں کے اردگرد جہاں ڈسکی نظرآئےاس کے تدارک کے لئے پودوں کی پروننگ کریں۔ ڈسکی بگ زیادہ تر چائنا روز،بیری یا سہانجنا کے درختوں پرپایاجاتا ہے۔ اگیتی کاشت کے دوران پودوں کے پھیلاؤ اور جھاڑ بنانے کی صلا حیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پودے سے پودے کا فاصلہ کم از کم ڈیڑھ فٹ رکھنا ضروری ہے۔

کلراٹھی زمینوں میں کاشتکار پٹڑیوں پر کاشت کریں۔کاشتکار جڑی بوٹیوں کے مؤثر تدارک کے لیے بجائی سے پہلے پینڈی میتھالین (1 لٹر) اور بجائی کے فوراً بعد وتر حالت میں ایس میٹاکلور(800 ملی لٹر) فی ایکڑ کا استعمال یقینی بنائیں۔کاشتکارکپاس کی کاشت ایسی جگہوں پر ہرگزنہ کریں جہاں بھنڈی یا بینگن کی فصلیں پہلے سے موجود ہوں۔ گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے لیے کپاس کی چھڑیوں کو ہفتے میں دو بار الٹ پلٹ کرنا اور ڈھیروں کے نیچے موجود کچرے کو تلف کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹرمحمد نوید افضل،ساجد محمود، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹررابعہ سعید،ڈاکٹرفرازنہ اکبر،ڈاکٹرآسیہ پروین میاں محمد اعظم،ڈاکٹرنورمحمد اورجنید احمد ڈاہاسائنٹفک آفیسرز نے شرکت کی۔ فارمرزایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ تیسرااجلاس16مارچ کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

مزید خبریں