فیصل آباد ۔ 09 مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادکے ڈائریکٹرچوہدری خالد محمودنے کہا ہے کہ موسم گرما میں شکر قندی کو ایک اہم نقد آور فصل کے طور پر کاشت کیا جاسکتا ہے جو بہترین مالی منفعت کا باعث ہے نیز شکر قندی کو تھوڑی کھاد اور کم پانی سے بھی اگا کر بہتر پیداوار کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے جس کے بیج کا خرچ نہ …
شکرقندی کاشت کرکے بہتر مالی منفعت حاصل کی جاسکتی ہے، محکمہ زراعت
فیصل آباد ۔ 09 مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادکے ڈائریکٹرچوہدری خالد محمودنے کہا ہے کہ موسم گرما میں شکر قندی کو ایک اہم نقد آور فصل کے طور پر کاشت کیا جاسکتا ہے جو بہترین مالی منفعت کا باعث ہے نیز شکر قندی کو تھوڑی کھاد اور کم پانی سے بھی اگا کر بہتر پیداوار کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے جس کے بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا شکر قندی کے کاشتکار منظور شدہ قسم وائٹ سٹار کاشت کریں تاکہ اچھی پیداوار مل سکے۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ شکر قندی غذائی اعتبار سے بھی انتہائی مفید ہوتی ہے جس میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کاشتکار جن کے پاس وافر سرمایہ نہ ہو وہ بھی انتہائی آسانی کے ساتھ شکر قندی کاشت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شکر قندی کیلئے تھوڑی کھاد اور کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بیج کا خرچہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کی کاشت کا موزوں وقت ماہ مارچ ہے تاہم کاشتکار ماہ اپریل کے دوران بھی فصل کاشت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ سٹار قسم سفید رنگ کی بہترین پیداوار دینے والی انتہائی مفید قسم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایکڑ رقبہ کاشت کرنے کیلئے 180سے200 کلوگرام شکرقندی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریتلی میرا زمین جس میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام ہو وہ شکر قندی کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاشت کار شکر قندی کی کاشت کیلئے محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی مشاورت کرسکتے ہیں۔









