پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف)کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ملکی فٹ بال میں نمایاں بہتری اور بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔برسوں تک یہ کھیل انتظامی چیلنجز کا شکار رہا جس نے اس کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔
سید محسن گیلانی کی قیادت میں ایک دہائی بحران کے بعد ملکی فٹ بال کی بحالی کا سفر شروع

مزید خبریں
لاہور۔6جون (اے پی پی):پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف)کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ملکی فٹ بال میں نمایاں بہتری اور بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔برسوں تک یہ کھیل انتظامی چیلنجز کا شکار رہا جس نے اس کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔
2015 سے 2025 کے درمیان اندرونی اختلافات، قانونی لڑائیوں اور فیفا کی جانب سے بار بار لگنے والی پابندیوں نے نہ صرف ملکی مقابلوں کو متاثر کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شرکت کو بھی محدود کیا اور کھیل کی ترقی ہر سطح پر رک گئی۔ فیفا کی جانب سے مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کی طویل مدت نے بھی اس جمود کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا، جس سے کھلاڑی، حکام اور فٹ بال کے پرستار شدید مایوسی کا شکار رہے۔مئی 2025 میں محسن گیلانی کا بطور صدر پی ایف ایف انتخاب اس کھیل کے لیے ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔ عہدہ سنبھالنے کے محض ایک سال کے اندر، ان کی انتظامیہ نے فیفا (FIFA)، ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (AFC)، ساتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن (SAFF) اور متعدد غیر ملکی فٹ بال اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنا کر بین الاقوامی فٹ بال برادری میں پاکستان کے وقار کو تیزی سے بحال کیا۔اس نئی لہر کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان کی بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدہ واپسی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، قومی ٹیموں نے علاقائی اور براعظمی سطح کے کئی اہم مقابلوں میں حصہ لیا، جن میں اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائرز، اے ایف سی انڈر 23 ایشین کپ کوالیفائرز، اے ایف سی انڈر 17 ایشین کپ کوالیفائرز، سیف انڈر 17 چیمپئن شپ، فیفا ویمنز سیریز 2026، اے ایف سی فٹسال ایشین کپ کوالیفائرز، سیف مینز اینڈ ویمنز فٹسال چیمپئن شپس اور فیفا ای ورلڈ کپ 2026 کی کوالیفائنگ مہم شامل ہیں۔فیڈریشن نے اس عرصے میں کئی نمایاں سنگ میل بھی عبور کیے۔ پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار مردوں اور خواتین کی قومی فٹسال ٹیمیں تشکیل دیں اور ایک خصوصی ‘فیفا ای’ (FIFAe) ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا، جس کی بدولت ملک نے پہلی بار بین الاقوامی ای اسپورٹس فٹ بال مقابلوں میں حصہ لیا۔ قومی خواتین فٹ بال ٹیم نے فیفا ویمنز سیریز میں اپنے پہلے ہی میچ میں 8-0 کی تاریخی فتح حاصل کی اور اپنے سے اعلی رینکنگ والی ٹیموں کے خلاف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، یوتھ فٹ بال کی بھی بین الاقوامی کیلنڈر میں واپسی ہوئی، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کو برسوں کی محرومی کے بعد اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔میدان سے باہر، پی ایف ایف نے کوچز کی تعلیم، ریفریوں کی تربیت، نوجوان کھلاڑیوں کے تبادلوں، انفراسٹرکچر کی بہتری اور پروفیشنل لیگ کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے معاہدوں اور شراکت داریوں کو مزید تیز کیا۔ پاکستان نے فیفا اور اے ایف سی کی کمیٹیوں میں تاریخ کی سب سے زیادہ نمائندگی بھی حاصل کی، جس سے عالمی فٹ بال کے فیصلہ ساز فورمز پر ملک کا موقف مضبوط ہوا ہے۔فیڈریشن نے بیک وقت کئی ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام شروع کیا ہے، جن میں فیفا ارینا پروجیکٹس، ملک کے پہلے نیشنل فٹ بال ٹریننگ سینٹر کے منصوبے اور پاکستان کی پہلی پروفیشنل فٹ بال لیگ کے آغاز کے لیے بنیادی کام شامل ہیں۔ایک اور ممکنہ طور پر تاریخی پیش رفت یہ ہے کہ فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کے پاکستان کے تاریخی دورے کے حوالے سے مذاکرات ایڈوانس اسٹیج پر ہیں۔ اگر اس دورے کو حتمی شکل دے دی گئی تو یہ کسی بھی فیفا صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا، جو ملک میں فٹ بال کی طویل مدتی ترقی کی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔اگرچہ انتظامی اصلاحات اور اداروں کی مضبوطی سے متعلق چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن پاکستانی فٹ بال اپنی کھوئی ہوئی رفتار دوبارہ حاصل کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ برسوں کےعدم استحکام اور ضائع ہونے والے مواقع کے بعد، یہ کھیل ایک بار پھر نئے اعتماد، امید اور پائیدار ترقی کے واضح ویژن کے ساتھ عالمی افق کی طرف بڑھ رہا ہے۔








