چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے استحکام اور عوامی جوابدہی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے جس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
منی لانڈرنگ کے خلاف موثر کارروائی کے لئے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے، چیئرمین نیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے استحکام اور عوامی جوابدہی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے جس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔وہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پاکا) کے زیر اہتمام اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لئے منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار اور عالمی فریم ورک کے موضوع پر منعقدہ چوتھی ایک روزہ تعارفی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ان تعارفی نشستوں کا مقصد پاکستان کے انسداد منی لانڈرنگ نظام سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور عدلیہ، تفتیشی اداروں، پراسیکیوٹرز، مالیاتی اداروں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اس اہم تعارفی نشست کے انعقاد پر نیب اور پاکا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ مالیاتی شواہد کا موثر جائزہ لینے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے میں عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
تقریب سے ڈپٹی چیئرمین نیب ناصر سہیل، ڈائریکٹر جنرل نیب محمد طاہر اور نور السحر نے بھی خطاب کیا اور شرکا کو منی لانڈرنگ سے متعلق قانونی اور تکنیکی پہلوئوں پر بریفنگ دی۔ڈائریکٹر جنرل پاکا غلام صفدر شاہ نےخیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی انسداد بدعنوانی کے شعبے میں ایک سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر اپنا کردار مسلسل مضبوط بنا رہی ہے۔ تقریب کے اختتام پر شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ مہمانوں کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔








